پچپن ویں سالگرہ ۔ قسط نمبر 1

 بچپن سے 55 تک  .( پچپن ویں سالگرہ ) .  (قسط۔1)

  اج 20 دسمبر 2023 ہے اج میری بیوی اور بچوں نے میری 55 ویں سالگرہ منائی کیونکہ میرا یوم پیدائش 20 دسمبر 1968 ہے لہذا اج میں 55 سال کا ہو گیا ہوں سرپرائز دینے کے لیے بچوں نے میرے بہن بھائیوں کو بھی بلا لیا تھا لہذا ایک اچھی خاصی تقریب کا اہتمام ہو گیا سالگرہ کا موقع تھا لہذا تہائف بھی ملے بیگم اور بچوں نے خصوصی گفٹ دیے کافی ہلہ گلہ رہا بہت مزہ آیا کھانے پینے سے فارغ ہو کر حسب معمول چائے کا دور چلا اور رات گئے تک بیٹھک لگی رہی تقریبا تین بجے کے قریب یہ محفل اختتام کو پہنچی سب کے رخصت ہونے کے بعد بیگم صاحبہ نے حسب عادت پورے گھر کی صفائی کی اور برتن دھو کر رکھے بچوں نے اور میں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا جب سونے کے لیے بیڈ روم میں ائے تو حکم صادر ہوا کہ فجر میں ادھا گھنٹہ باقی ہے لہذا ابھی کوئی نہ سوئے اب پوری رات جاگے ہیں تو فجر پڑھ کر سوئیں گے لہذا بچے تو اپنے اپنے موبائل لے کر بیٹھ گئے بیگم صاحبہ نے وضو کر کے فجر کے انتظار میں تسبیح سنبھال لی ہم نے موقع غنیمت جانا اور اپنی رائٹنگ ٹیبل پر اگئے اور اپنی ریوالونگ چیئر پر بیٹھ کر ٹیک لگائی اور آنکھیں موند کر ماضی کی یادوں میں کھو گئے اور زندگی کے 55 سالوں کا تجزیہ کرنے بیٹھ گئے بچپن کی یادوں سے جس سفر کا اغاز کیا وہ 55 پر آ کر ٹھہرا اسی لمحے ایک خیال ایا کہ ماضی کے ان واقعات اور یادوں کو کیوں نہ کتابی شکل دی جائے اور بچپن سے لے کر 55 تک کی یادیں صفحہ قرطاس پر بکھیر دی جائیں اسی وقت کتاب کا نام بھی ذہن میں اگیا بچپن سے 55 تک کتاب کا نام تجویز کر کے چہرے پر اطمینان کے اثار نظر انے لگے اسی وقت فضا فجر کی آزان کی آوازوں سے گونج اٹھی اس کو تائید خداوندی جان کر اس عزم کو مستحکم کیا کہ اب پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس کام کو پائے تکمیل تک پہنچا کر رہیں گے گو کہ ایک طرف یہ خیال بھی تھا کہ ہم کون سے طرم خان ہیں کہ اپنی اپ بیتی لکھیں لیکن زندگی کی جدوجہد میں جس طرح حصہ لیا زندگی میں جو واقعات رونما ہوئے ان سے جو سبق حاصل ہوئے وہ ضرور عام افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گے پھر ہمارے بچپن کے دور کا ماحول اور بچپن میں کھیلے جانے والے کھیل جو کہ اب متروک ہو چکے ہیں وہ اگر بیان کر دیے جائیں تو ضرور تاریخ کا حصہ بن جائیں گے ہم نے ایک مکمل دور کو تبدیل ہوتے دیکھا ہے ہمارا سادہ بچپن اور پھر ترقی یافتہ ڈیجیٹل دور  اور ان لائن دنیا کے سارے کام کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے کمالات اور اخر میں اسمارٹ موبائل فون کے کرشمہ جات اور اب اے ائی کے کمالات تعجب ہوتا ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی جب اپ ہمارے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک دور سے دوسرے دور میں داخل ہوں گے تو یقینا انجوائے کریں گے اس  سارے سفر میں یقینا ہم کوئی قابل ذکر شے نہ ہوں گے لیکن اس 55 سالہ دور کی مکمل کہانی ایک تاریخ بن کے جب اپ کے سامنے ائے گی تو نہ صرف قابل ذکر ہوگی بلکہ گزرے ہوئے دور کا ہر حصہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا.. . . . . . . .   از طرف ڈاکٹر سید عدنان حسن سامی

Comments